احکام خداوندی
قسط نمبر 28
حضرت مسیح موعودؑ فرماتے ہیں:
’’جو شخص قرآن کے سات سو حکم میں سے ایک چھوٹے سے حکم کو بھی ٹالتا ہےوہ نجات کا دروازہ اپنے ہاتھ سے بند کرتا ہے-‘‘
(کشتی نوح)
حلال و حرام
میرے نزدیک سب سے بڑے مشرک کیمیا گر ہیں۔ کہ رزق کی تلاش میں یوں مارے مارے پھرتے ہیں اور ان أسباب سے کام نہیں لیتے جو اللہ تعالیٰ نے جائز طور سے رزق کے حصول کے لئے مقرر کئے ہیں اور نہ پھر توکل کرتے ہیں۔
(حضرت مسیح موعود علیہ السلام)
(حصہ1)
حلت و حُرمت کا دائمی اصول
- یَسۡـَٔلُوۡنَکَ عَنِ الۡخَمۡرِ وَ الۡمَیۡسِرِؕ قُلۡ فِیۡہِمَاۤ اِثۡمٌ کَبِیۡرٌ وَّ مَنَافِعُ لِلنَّاسِ ۫ وَ اِثۡمُہُمَاۤ اَکۡبَرُ مِنۡ نَّفۡعِہِمَا ؕ وَ یَسۡـَٔلُوۡنَکَ مَا ذَا یُنۡفِقُوۡنَ ۬ؕ قُلِ الۡعَفۡوَ ؕ کَذٰلِکَ یُبَیِّنُ اللّٰہُ لَکُمُ الۡاٰیٰتِ لَعَلَّکُمۡ تَتَفَکَّرُوۡنَ ﴿۲۲۰﴾ۙ
(البقرہ: 220)
وہ تجھ سے شراب اور جوئے کے متعلق سوال کرتے ہیں۔ تُو کہہ دے کہ ان دونوں میں بڑا گناہ (بھی) ہے اور لوگوں کے لئے فوائد بھی۔ اور دونوں کا گناہ (کا پہلو) ان کے فائدے سے بڑھ کر ہے۔ اور وہ تجھ سے (یہ بھی) پوچھتے ہیں کہ وہ کیا خرچ کریں؟ ان سے کہہ دے کہ (ضروریات میں سے) جو بھی بچتا ہے۔ اسی طرح اللہ تمہارے لئے (اپنے) نشانات کھول کھول کر بیان کرتا ہے تاکہ تم تفکّر کرو۔
اللہ کے رزق سے کھاؤ پیو
- وَ اِذِ اسۡتَسۡقٰی مُوۡسٰی لِقَوۡمِہٖ فَقُلۡنَا اضۡرِبۡ بِّعَصَاکَ الۡحَجَرَ ؕ فَانۡفَجَرَتۡ مِنۡہُ اثۡنَتَاعَشۡرَۃَ عَیۡنًا ؕ قَدۡ عَلِمَ کُلُّ اُنَاسٍ مَّشۡرَبَہُمۡ ؕ کُلُوۡا وَ اشۡرَبُوۡا مِنۡ رِّزۡقِ اللّٰہِ وَ لَا تَعۡثَوۡا فِی الۡاَرۡضِ مُفۡسِدِیۡنَ ﴿۶۱﴾
(البقرہ: 61)
اور جب موسیٰ نے اپنی قوم کے لئے پانی مانگا تو ہم نے کہا کہ چٹان پر اپنے عصا سے ضرب لگاؤ۔ تب اس میں سے بارہ چشمے پھوٹ پڑے اور سب لوگوں نے اپنے اپنے پانی پینے کی جگہ معلوم کر لی۔ اللہ کے رزق سے کھاؤ اور پیو اور زمین میں فسادی بنتے ہوئے بداَمنی نہ پھیلاؤ۔
اللہ کے رزق میں سے حلال اور طیب کھاؤ
- وَ کُلُوۡا مِمَّا رَزَقَکُمُ اللّٰہُ حَلٰلًا طَیِّبًا ۪ وَّ اتَّقُوا اللّٰہَ الَّذِیۡۤ اَنۡتُمۡ بِہٖ مُؤۡمِنُوۡنَ ﴿۸۹﴾
(المائدہ: 89)
اور اس میں سے جو اللہ نے تمہیں رزق دیا حلال (اور) پاکیزہ کھایا کرو۔ اور اللہ کا تقویٰ اختیار کرو جس پر تم ایمان لاتے ہو۔
- کُلُوۡا مِنۡ طَیِّبٰتِ مَا رَزَقۡنٰکُمۡ وَ لَا تَطۡغَوۡا فِیۡہِ فَیَحِلَّ عَلَیۡکُمۡ غَضَبِیۡ ۚ وَ مَنۡ یَّحۡلِلۡ عَلَیۡہِ غَضَبِیۡ فَقَدۡ ہَوٰی ﴿۸۲﴾
(طٰہٰ: 82)
جو رزق ہم نے تمہیں عطا کیا ہے اس میں سے طیّب چیزیں کھاؤ اور اس بارہ میں حد سے تجاوز نہ کرو ورنہ تم پر میرا غضب نازل ہوگا اور جس پر میرا غضب نازل ہو تو وہ یقیناً ہلاک ہوگیا۔
کھانے پینے میں پاکیزہ صفائی کا حکم
- قُلۡ مَنۡ حَرَّمَ زِیۡنَۃَ اللّٰہِ الَّتِیۡۤ اَخۡرَجَ لِعِبَادِہٖ وَ الطَّیِّبٰتِ مِنَ الرِّزۡقِ ؕ قُلۡ ہِیَ لِلَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا فِی الۡحَیٰوۃِ الدُّنۡیَا خَالِصَۃً یَّوۡمَ الۡقِیٰمَۃِ ؕ کَذٰلِکَ نُفَصِّلُ الۡاٰیٰتِ لِقَوۡمٍ یَّعۡلَمُوۡنَ ﴿۳۳﴾
(الاعراف: 33)
تو پوچھ کہ اللہ کی (پیدا کردہ) زینت کس نے حرام کی ہے جو اس نے اپنے بندوں کے لئے نکالی ہے۔ اور رزق میں سے پاکیزہ چیزیں بھی۔ تُو کہہ دے کہ یہ اس دنیا کی زندگی میں بھی ان کے لئے ہیں جو ایمان لائے (اور) قیامت کے دن تو خالصۃً (بلاشرکتِ غیرے صرف انہی کے لئے ہوں گی)۔ اسی طرح ہم نشانات کھول کھول کر بیان کرتے ہیں ایسے لوگوں کے لئے جو علم رکھتے ہیں۔
پاکیزہ چیزیں کھاتے وقت اللہ کا تقوی مدنظر رہے
- لَیۡسَ عَلَی الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ جُنَاحٌ فِیۡمَا طَعِمُوۡۤا اِذَا مَا اتَّقَوۡا وَّ اٰمَنُوۡا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ ثُمَّ اتَّقَوۡا وَّ اٰمَنُوۡا ثُمَّ اتَّقَوۡا وَّ اَحۡسَنُوۡاؕ وَ اللّٰہُ یُحِبُّ الۡمُحۡسِنِیۡنَ ﴿۹۴﴾
(المائدہ: 94)
وہ لوگ جو ایمان لائے اور نیک عمل بجا لائے ان پر اس میں کوئی گناہ نہیں جو وہ کھاتے ہیں بشرطیکہ کہ وہ تقویٰ اختیار کریں اور ایمان لائیں اور نیک عمل کریں۔ پھر (مزید) تقویٰ اختیار کریں اور (مزید) ایمان لائیں۔ پھر اور بھی تقویٰ اختیار کریں اور احسان کریں۔ اور اللہ احسان کرنے والوں سے محبت کرتا ہے۔
خبیث چیز کو طیب کے تبادلہ میں نہ لو
- یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا لَا تَاۡکُلُوۡۤا اَمۡوَالَکُمۡ بَیۡنَکُمۡ بِالۡبَاطِلِ اِلَّاۤ اَنۡ تَکُوۡنَ تِجَارَۃً عَنۡ تَرَاضٍ مِّنۡکُمۡ ۟ وَ لَا تَقۡتُلُوۡۤا اَنۡفُسَکُمۡ ؕ اِنَّ اللّٰہَ کَانَ بِکُمۡ رَحِیۡمًا ﴿۳۰﴾
(النساء: 30)
اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو! اپنے اموال آپس میں ناجائز طریق پر نہ کھایا کرو۔ ہاں اگر وہ ایسی تجارت ہو جو تمہاری باہمی رضامندی سے ہو۔ اور تم اپنے آپ کو (اقتصادی طور پر) قتل نہ کرو۔ یقینا ًاللہ تم پر باربار رحم کرنے والا ہے۔
حلال کو حرام نہ ٹھہراؤ
- یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا لَا تُحَرِّمُوۡا طَیِّبٰتِ مَاۤ اَحَلَّ اللّٰہُ لَکُمۡ وَ لَا تَعۡتَدُوۡا ؕ اِنَّ اللّٰہَ لَا یُحِبُّ الۡمُعۡتَدِیۡنَ ﴿۸۸﴾
(المائدہ: 88)
اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو! اُن پاکیزہ چیزوں کو جو اللہ نے تمہارے لئے حلال کر دی ہیں حرام نہ ٹھہرایا کرو۔ اور حد سے تجاوز نہ کرو۔ یقیناً اللہ حد سے تجاوز کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔
کھانے پینے میں میانہ روی کی تعلیم
- یٰبَنِیۡۤ اٰدَمَ خُذُوۡا زِیۡنَتَکُمۡ عِنۡدَ کُلِّ مَسۡجِدٍ وَّ کُلُوۡا وَ اشۡرَبُوۡا وَ لَا تُسۡرِفُوۡا ۚ اِنَّہٗ لَا یُحِبُّ الۡمُسۡرِفِیۡنَ ﴿۳۲﴾
(الاعراف: 32)
اے ابنائے آدم! ہر مسجد میں اپنی زینت (یعنی لباسِ تقویٰ) ساتھ لے جایا کرو۔ اور کھاؤ اور پیو لیکن حد سے تجاوز نہ کرو۔ یقیناً وہ حد سے تجاوز کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔
خرچ میں میانہ روی
- وَ الَّذِیۡنَ اِذَاۤ اَنۡفَقُوۡا لَمۡ یُسۡرِفُوۡا وَ لَمۡ یَقۡتُرُوۡا وَ کَانَ بَیۡنَ ذٰلِکَ قَوَامًا ﴿۶۸﴾
(الفرقان: 68)
اور وہ لوگ کہ جب خرچ کرتے ہیں تو اِسراف نہیں کرتے اور نہ بخل سے کام لیتے ہیں بلکہ اس کے درمیان اعتدال ہوتا ہے۔
قحط اور سخت دنوں کی خاطر
پس انداز جمع کرنے کی تاکید
- قَالَ تَزۡرَعُوۡنَ سَبۡعَ سِنِیۡنَ دَاَبًا ۚ فَمَا حَصَدۡتُّمۡ فَذَرُوۡہُ فِیۡ سُنۡۢبُلِہٖۤ اِلَّا قَلِیۡلًا مِّمَّا تَاۡکُلُوۡنَ ﴿۴۸﴾
- ثُمَّ یَاۡتِیۡ مِنۡۢ بَعۡدِ ذٰلِکَ سَبۡعٌ شِدَادٌ یَّاۡکُلۡنَ مَا قَدَّمۡتُمۡ لَہُنَّ اِلَّا قَلِیۡلًا مِّمَّا تُحۡصِنُوۡنَ ﴿۴۹﴾
(یوسف 48-49)
اس نے کہا کہ تم مسلسل سات سال تک کاشت کرو گے۔ پس جو تم کاٹو اسے اس کی بالیوں میں رہنے دو سوائے تھوڑی مقدار کے جو تم اس میں سے کھاؤ گے۔پھر اس کے بعد سات بہت سخت (سال) آئیں گے جو وہ کھا جائیں گے جو تم نے ان کے لئے آگے بھیجا ہوگا سوائے اس میں سے تھوڑے سے حصہ کے جو تم (آئندہ کاشت کے لئے) سنبھال رکھو گے۔
(700 احکام خداوندی از حنیف محمود)
(قدسیہ نور والا۔ ناروے)











