• 13 اکتوبر, 2026

ایک سبق آموزبات

تلخ ماضی

ہر انسان کی زندگی خوشیوں، غموں کہیں تلخیوں اور کہیں حادثات سے عبارت ہے۔ اکثر انسان اپنی زندگی کو ماضی کی تلخ یادوں کے ساتھ مقید کر لیتا ہے پھر تلخ باتوں اور تلخ رویوں کو یاد کر کے کڑھتے رہنا حال کے ساتھ ساتھ مستقبل کو بھی خراب کرنے کا باعث بنتا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ صرف اور صرف تلخیوں سے حاصل ہونے والے سبق کو ہی یاد رکھا جائے۔ تا کہ انسان کی ذہنی و جسمانی نشوونما اور دینی و دنیاوی ترقی کا راستہ کھلا رہے۔

(مرسلہ: ثمرہ خالد۔ جرمنی)

Read Previous

دعا کا تحفہ

Read Next

فقہی کارنر

Most Popular