• 7 اکتوبر, 2026

سلام طالع

سلام طالع، سلام طالع
بلند تیرا مقام طالع
ہر ایک لب پر ہے نام تیرا
ہر ایک دل میں ترا بسیرا
لہو سے تیرے ہوا سویرا
عظیم تھا تیرا کام طالع
سلام طالع، سلام طالع
بلند تیرا مقام طالع
خلیفہ نے خود ہے دی گواہی
تو تھا بہادر مرا سپاہی
تو راہِ عشق  و وفا کا راہی
رہے گا زندہ یہ نام طالع
سلام طالع، سلام طالع
بلند تیرا مقام طالع
وفا کو اپنا شعار کرنا
سدا خلافت سے پیار کرنا
خلیفہ پر جان نثار کرنا
یہی تھا تیرا پیام طالع
سلام طالع، سلام طالع
بلند تیرا مقام طالع

(مرزا ندیم احمد، یوکے)

Read Previous

اگر انسان اپنی حیثیت پر غور کرتا رہے

Read Next

آؤ!اُردو سیکھیں (سبق نمبر 23)

Most Popular