• 14 ستمبر, 2026

آج اشكوں كا تار ٹوٹ گیا

آج اشكوں كا تار ٹوٹ گیا
رشتۂ انتظار ٹوٹ گیا

یوں وه ٹھكرا كے چل دیے گویا
اک کھلونا تھا پیار ٹوٹ گیا

رویا ره ره كے هچكیاں لے كر
ساز غم بار بار ٹوٹ گیا

آپ كى بے رخى كا شكوه كیا
دل تھا ناپائیدار ٹوٹ گیا

دیكھ لى دل نے بےثباتئی گل
پھر طلسم بهار ٹوٹ گیا

سیف! كیا چار دن كى رنجش سے
اتنى مدت كا پیار ٹوٹ گیا

(سیف الدین سیف)

Read Previous

بعض لوگ خاندانوں اور ذاتوں اور شکلوں وغیرہ کے مسئلے میں الجھ جاتے ہیں

Read Next

تیس جھوٹے دجّالوں والی حدیث اور علماء کی دھوکہ دہی

Most Popular