• 15 ستمبر, 2026

تیری تصویر اگر تیرا بدل ہو جا ئے

تیری تصویر اگر تیرا بدل ہو جائے
میری ہر شام ہی پھر شامِ غزل ہو جائے

جو بھی جاتا ہے تری بزم کا ہو رہتا ہے
جو بھی چاہے کہ اٹھے، آج سے کل ہو جائے

آج پھر آس بندھی مجھ کو ترے آنے کی
منہدم پھر نہ مرا تاج محل ہو جائے

کوئی اعجاز ہے یا حسنِ عقیدت ہے کہ بات
تیرے ہونٹوں سے نکلتے ہی عمل ہو جائے

اپنے ہر اشک کو لفظوں میں پروئے رکھو
شاخ سے گر کے نہ یہ پھول خجل ہو جائے

یہ ہنر میرا نہیں اس کی دعا ہے عابد!
جو مرا اشک گہر، لفظ کنول ہو جائے

(مبارک احمد عابد۔ امریکہ)

Read Previous

صحابہ نے جو قربانیوں کے نمونے قائم کئے ہیں

Read Next

حضرت صوفی شيخ مولا بخشؓ آف لاہور اور حضرت مرزا سلطان محمود بيگؓ آف پٹی

Most Popular