• 13 ستمبر, 2026

اُس کو دیکھا تو ہم نے کیا دیکھا ؟

اُس کو دیکھا تو ہم نے کیا دیکھا؟
چہرہ اک نور سے بھرا دیکھا
اُس کی معصوم بھولی صورت میں
اک فرشتہ چُھپا ہوا دیکھا
اُس کی آنکھیں غزال آنکھیں ہیں
ایک یوسف سا پارسا دیکھا
تیرے بیمارِ عشق نے تجھ کو
اک مسیحا بنا ہوا دیکھا
کیوں نہ جادو گری کہیں اس کو
سِحر ہم پر ہے خود چلا دیکھا
اُس کی زلفوں کی رات میں ہم نے
چاند پیچھے کہیں چھپا دیکھا
جس نے دیکھا نہیں کبھی اُس کو
اُس نے دنیا میں حُسن کیا دیکھا
اُس کی آنکھیں شراب خانہ ہیں
جس کو دیکھا وہ جھومتا دیکھا
ہم نے اُس کے حسیں سراپے کو
یار احمد! خدا نما دیکھا

(مبارک احمد سیّد)

Read Previous

وحدت قائم نہیں ہو سکتی جب تک اطاعت نہ کی جاوے

Read Next

ہر معاملہ میں امام کے پیچھے چلیں

Most Popular