• 14 ستمبر, 2026

خلافت دھوپ میں سایہ

خلافت ہی حفاظت ہے، خلافت ہی نگہبانی
رہا گھاٹے میں وہ جس نے یہ نعمت ہی نہ پہچانی

خلافت دھوپ میں سایہ، خلافت غم میں غمخواری
یہ چشمہ ہے محبت کا جو سب دنیا میں ہے جاری

خلافت درد کا چارہ، خلافت ہی سہارا ہے
جو رہبر ہو اندھیرے میں، خلافت وہ ستارہ ہے

خلافت کا جو دشمن ہے کہیں کا بھی نہیں رہتا
فلک کا تو وہ کیا ہوگا، زمیں کا بھی نہیں رہتا

خلافت کا شجر پھولے پھلے گا، وعدہ ربانی
وہ خود مٹ جائے گا جس نے مٹانے کی اسے ٹھانی

(م-ج-مرزا)

Read Previous

ایڈیٹر کے نام خط

Read Next

یوکرائن سے لٹویا آنے والے پناہ گزینوں کی امداد

Most Popular