• 8 اکتوبر, 2026

سمت ہے اس کی نہ حد

سمت ہے اس کی نہ حد
کلام چوہدری محمد علی مضطرؔ عارفی

سمت ہے اس کی نہ حد
قُلْ هُوَ اللّٰهُ أَحَدٌ

اور سب محتاج ہیں
ذات ہے اس کی صمد

یکّہ و تنہا ہے وہ
اس کا والد نہ ولد

لَا کا ہے اِثبات وہ
نفْی ہے اس کی نہ رد

اس کے در کے ہیں فقیر
پست و بالا، نیک و بد

کون ہے اس کے سوا
معتبر اور مستند

اس کے حرف و صوت و لفظ
زیر و پیش، مدّ و شد

اس کے سارے انقلاب
جذْر سارے، سارے مد

سب حساب اس کے حساب
ہر عدد اس کا عدد

وقت ہے اس کا غلام
ہر ازل اور ہر ابد

Read Previous

عاجزی اور انکساری

Read Next

باترجمہ قرآنِ کریم پڑھنا کیوں ضروری ہے؟

Most Popular