• 14 ستمبر, 2026

ایک تصحیح

مضمون نگار اپنے مضامین میں آیت قرآنی کا حوالہ ترجمہ کے ساتھ دیتے ہیں جو درست نہیں ۔حوالہ آیتِ قرآنی کے ساتھ آنا چاہیئے اور الفضل آن لائن کے فارمیٹ میں حوالہ یوں دیا جاتا ہے۔ (البقرہ: 21)

نیز بعض دوست ترجمہ آیت قرآنی پر Inverted comma ڈال دیتے ہیں۔ یہ بھی درست نہیں ۔ہاں ترجمہ اگر کسی جگہ سے لیا گیا ہو تو اس کا حوالہ نیچے دیا جاسکتا ہے جیسے ترجمہ از تفسیر صغیر یا ترجمہ ازحضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ۔ اسی طرح اگر دو سے زائد آیات یا صفحات کا حوالہ دینا مقصود ہو تو چھوٹا فگر (ہندسہ) دائیں طرف آئے گا جیسے (البقرہ: 17۔20) نہ کہ (البقرہ: 20۔17)۔ اور کتاب کا حوالہ یوں دیں۔ (براہین احمدیہ ہر چہار حصص، روحانی خزائن جلد1 صفحہ150۔ 153) نہ کہ (150-153) کیونکہ اردو رسم الخط میں آپ دائیں طرف سے عبارت کو پڑھ رہے ہوتےہیں ۔ جزاکم اللہ خیرا

(ایڈیٹر)

Read Previous

مرکزی سالانہ اطفال ریلی2021ء

Read Next

اعلان ولادت

Most Popular