• 13 ستمبر, 2026
  1. Home
  2. آج کا شمارہ

Category: نظم

وفات مسیح ناصری علیہ السلام

وفات مسیح ناصری علیہ السلام

کیوں نہیں لوگو! تمہیں حق کا خیال؟دل میں اُٹھتا ہے مرے سَو سَو اُبال ابن مریم مر گیا حق کی قسمداخلِ جنت ہوا وہ محترم مارتا ہے اُس کو فرقاں سر بسراس کے مرجانے کی

بدظنی سے بچو

بدظنی سے بچو

بدظنی سے بچو(کلام حضرت مسیح موعودؑ) اگر دل میں تمہارے شر نہیں ہےتو پھر کیوں ظنِ بد سے ڈر نہیں ہے کوئی جو ظنِ بد رکھتا ہے عادتبدی سے خود وہ رکھتا ہے اِرادت گمانِ

سرائے خام

سرائے خام

سرائے خام(کلام حضرت مسیح موعودؑ) دنیا کی حرص و آز میں کیا کچھ نہ کرتے ہیںنقصاں جو ایک پیسہ کا دیکھیں تو مرتے ہیں زر سے پیار کرتے ہیں اور دل لگاتے ہیںہوتے ہیں زر

میں تجھے جب خط لکھوں

میں تجھے جب خط لکھوں

میں تجھے جب خط لکھوں خود کو سنبھالوں تو لکھوںپاک صاف و باوضو دل کو بنا لوں تو لکھوں اشک ہوویں روشنائی اور قلم یہ دل بنےپھر خیال و خواب کے کاغذ بچھا لوں تو

لوائے مصطفیٰ ؐ تھامے

لوائے مصطفیٰ ؐ تھامے

ہمیں سب غم اٹھانے ہیں لوائے مصطفیٰ ؐ تھامےمگر پھر گیت گانے ہیں لوائے مصطفیٰ ؐ تھامے خدا نے جو اتاری ہے اسی مشعل کی جگ مگ سےاندھیرے سب مٹانے ہیں لوائے مصطفیٰ ؐ تھامے چلے ہیں عزم

شام حسیں کا ماحول

شام حسیں کا ماحول

بس گیا دل میں جو اک ماہ جبیں کا ماحولاب ہمیں راس نہیں آتا کہیں کا ماحول لوگ بے چارے ہیں ابہام کی دلدل کے اسیرہمیں اللہ نے بخشا ہے یقیں کا ماحول ہو جہاں

تم اس کا گھر گراتے ہو خدا تم کو گرا دے گا

تم اس کا گھر گراتے ہو خدا تم کو گرا دے گا

نہ پہلے اس نے چھوڑا ہے نہ آئندہ وہ چھوڑے گاہمیں خود پیار سے وہ دامنِ رحمت میں بھر لے گا خدا کا گھر کسی بھی نام سے ہو اس کی حرمت ہےتم اس کا

حمد رب العٰلمین (کلام حضرت مسیح موعودؑ)

حمد رب العٰلمین (کلام حضرت مسیح موعودؑ)

کس قدر ظاہر ہے نور اُس مبدء الانوار کابن رہا ہے سارا عالم آئینہ ابصار کا چاند کو کل دیکھ کر میں سخت بے کل ہوگیاکیونکہ کچھ کچھ تھا نشاں اس میں جمال یار کا

تمہارے دم سے تھیں گھر میں ہمارے برکتیں بابا!

تمہارے دم سے تھیں گھر میں ہمارے برکتیں بابا!

ہمیشہ پیار کی تم نے مجھے دیں دولتیں بابا!جبیں پر میری کندہ ہیں تمہاری الفتیں بابا! بھلا پائیں گے ہم کیسے تمہاری محنتیں بابا!ہمیں ساری کی ساری یاد ہیں وہ کلفتیں بابا! تمہاری روز و

اور کتنا لہو ؟

اور کتنا لہو ؟

میری ارضِ وطن! اور کتنا لہو؟اے دریدہ بدن! اور کتنا لہو؟ کس بلا کی ہے پیاسی یہ تیری زمیںاور کتنے کفن؟ اور کتنا لہو؟ یہ ترا حسن کس کی نظر کھا گئیکیا ہوا بانکپن؟ اور