• 15 ستمبر, 2026
  1. Home
  2. نظم

Category: نظم

الفضل کی نئی سج دھج

الفضل کی نئی سج دھج

ایک سو چھ سالا جذبہ الفضل اک نئے میداں میں اُترا الفضل اب کے انٹرنیٹ کا ہے رستہ چُنا اک نئی سج دھج سے آیا الفضل گوناں گوں مضمون اور خبریں لئے آ گیا پھر

ترجما ن اہلِ وفا

ترجما ن اہلِ وفا

یہ خزانہ ہے جو ہے سارے کا سارا آپ کا یہ جریدہ اور اس کا ہر شمارہ آپ کا حضرتِ فضلِ عمر کے عزم و ہمت کا نشاں حوصلے بڑھا رہا ہے ہر اشارہ آپ

زندگی بخش ہے فضل کی نہر ہے

زندگی بخش ہے فضل کی نہر ہے

زندگی بخش ہے فضل کی نہر ہے نور کی لہر ہے علم کا شہر ہے ہے عمل کامیابی کا ضامن کہ ہاں بے عمل علم ہے تو فقط زہر ہے ہے یہ جوئے سعادت رَواں

فراستِ عمرؓ کی زندہ مثال

فراستِ عمرؓ کی زندہ مثال

یہ ہے سبھی کے لئے اک حسین صبحِ جمال فروغِ حق و صداقت ہے اس کا حسن و کمال کہاں ہے دنیائے علم و ادب میں ایسا نگیں کہاں ہے سارے زمانے میں اس کی

صنعتِ توشیح

صنعتِ توشیح

(تمام پہلے حروف ملا کر نام بنایا جاتا ہے) ر۔ ر سے روز آنا ترا سو سال تک اپنے ہاتھوں، مصلح موعود نے ہیں تراشے تیرے خدوخال تک ل۔ ل سے لشکر لئے الفاظ کا

غزل

غزل

تیرے قدموں کو چُھوا تو بہت اِکسیر ہوا میں تیرے ہاتھ کو چُوم کے صاحبِ توقیر ہوا میں تیرے ہوتے میں تھا اپنی ذات میں مَست اَلست تیرے جانے کے بہت دل گیر ہوا میں

ایم ٹی اے اور الفضل

ایم ٹی اے اور الفضل

ہم شاخیں درخت وجود کی ہیں سر پر ہے خلافت کا سایہ افسوس ہے ان کی حالت پر جو تپتی دھوپ میں جلتے ہیں ہم بندھ گئے ایسے رشتے میں جو سب رشتوں سے پیارا