• 18 اکتوبر, 2026

متفرق اشعار

متفرق اشعار
منظوم کلام حضرت مسیح موعودؑ

نہیں محصور ہر گز راستہ قدرت نمائی کا
خدا کی قدرتوں کا حصر دعویٰ ہے خدائی کا

(براہین احمدیہ حصہ چہارم صفحہ401 مطبوعہ 1884ء)

قدرت سے اپنی ذات کا دیتا ہے حق ثبوت
اس بے نشاں کی چہرہ نمائی یہی تو ہے

جس بات کو کہے کہ کروں گا یہ میں ضرور
ٹلتی نہیں وہ بات خدائی یہی تو ہے

(اعلان مطبوعہ ریاض ہند امرتسر 22؍مارچ 1886ء)

جس نے پیدا کیا وہی جانے
دوسرا کیونکر اُس کو پہچانے

غیر کو غیر کی خبر کیا ہو
نظَر دور کارگر کیا ہو

(سرمہ چشم آریہ صفحہ184مطبوعہ 1886ء)

جو ہمارا تھا وہ اب دلبر کا سارا ہو گیا
آج ہم دلبر کے اور دلبر ہمارا ہو گیا

شکر للہ مل گیا ہم کو وہ لعلِ بے بَدَل
کیا ہوا گر قوم کا دل سنگ خارا ہو گیا

ہم نے اُلفت میں تری بار اُٹھایا کیا کیا
تجھ کو دکھلا کے فلک نے ہے دکھایا کیا کیا

(ازالہء اوہام حصہ دوم صفحہ665 مطبوعہ 1891ء)

پیش گوئی کا جب انجام ہوَیدا ہو گا!
قُدرتِ حق کا عجب ایک تماشا ہو گا

جھوٹ اور سچ میں جو ہے فرق وہ پیدا ہو گا
کوئی پا جائے گا عزت کوئی رسوا ہو گا

(آئینہ کمالات اسلام صفحہ281 مطبوعہ 1893ء)

لوگوں کے بغضوں سے اور کینوں سے کیا ہوتا ہے
جس کا کوئی بھی نہیں اُس کا خدا ہوتا ہے

بے خدا کوئی بھی ساتھی نہیں تکلیف کے وقت
اپنا سایہ بھی اندھیرے میں جُدا ہوتا ہے

(حاشیہ اشتہار مع معیار الاخیاروالاشرار مطبوعہ17مارچ 1894ء)

Read Previous

الفضل آن لائن 31 دسمبر 2022

Read Next

خلاصہ خطبہ جمعہ فرمودہ 30؍دسمبر 2022ء

Most Popular