• 18 اکتوبر, 2026

جانے کیا بات ہے وابستہ رُخِ یار کے ساتھ

جانے کیا بات ہے وابستہ رُخِ یار کے ساتھ
شوقِ نظارہ بڑھے اور بھی دیدار کے ساتھ

غیر تو غیر ہیں غیروں سے شکایت کیسی
گھر مرا لُوٹا ہے اپنوں نے بھی اغیار کے ساتھ

دلربا، دلنشیں، دلبر بھی کہے جاتے ہو جس کو
مکر و عیّاری بھی کی ہے اُسی دلدار کے ساتھ

اگلے وقتوں میں تھے انمول وفا کے گوہر
اب تو بکتے ہیں سرِ رہ زر و دینار کے ساتھ

آج بھی حق کے علمداروں کو حاصل ہے وہی
نصرتِ حق، تھی جو کل حیدرِ کرّار کے ساتھ

بادہٴ اصل دکانوں سے منگانے والو
ایسی صہبا کا تعلق نہیں بازار کے ساتھ

زہر کا جام پیا ہم نے، ہمی اہلِ صلیب
فخرِ نسبت ہے ہمیں اس رسن و دار کے ساتھ

مت کرو عزمِ جفا ہم ہیں وہ سودائیِ عشق
پھوڑ خود لیتے ہیں سر تیشہ و دیوار کے ساتھ

کوئی سولی پہ چڑھا اور کوئی خاک ہوا
ہوتی آئی ہے یہ ہر پیکرِ پندار کے ساتھ

(م م محمودؔ)

Read Previous

معاشرے میں برائیوں کا احساس

Read Next

افطار پروگرام Kumanovo

Most Popular