• 6 مئی, 2021

حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اپنی ایک کتاب ’’نشانِ آسمانی‘‘ میں یہ طریق بھی بتایا ہے کہ توبۃ النصوح کر کے رات کو دو رکعت نماز پڑھو۔

حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں:۔
حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اپنی بعض کتب میں اپنے مسیح و مہدی ہونے کا اعلان کرتے ہوئے حق کی تلاش کرنے والے علماء و صلحاء اور عوام الناس کو اس طرف بھی توجہ دلائی ہے کہ بلا وجہ تکفیر کے فتوے لگانے یا عوام الناس کو بغیر سوچے سمجھے علماء کے پیچھے چلنے کے بجائے اللہ تعالیٰ سے مدد مانگنی چاہئے۔ لیکن شرط یہ ہے کہ خالی الذہن ہو کر اللہ تعالیٰ کے حضور دعا کریں تو یقینا اللہ تعالیٰ رہنمائی فرمائے گا۔

حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اپنی ایک کتاب ’’نشانِ آسمانی‘‘ میں یہ طریق بھی بتایا ہے کہ توبۃ النصوح کر کے رات کو دو رکعت نماز پڑھو۔ پہلی رکعت میں سورۃ یٰسین پڑھے، دوسری رکعت میں اکیس مرتبہ سورۃ اخلاص پڑھے، پھر بعد اس کے تین سو مرتبہ درود شریف اور تین سو مرتبہ استغفار پڑھ کر اللہ تعالیٰ سے مدد چاہے کہ تُو پوشیدہ باتوں کو جانتا ہے، اس شخص کے بارے میں مجھ پر حق کھول دے۔

پھر اس میں آپ نے دوبارہ یہ تاکید فرمائی ہے کہ اپنے نفس سے خالی ہو کر یہ استخارہ کرنا شرط ہے۔ لیکن اوّل تو توبۃ النصوح ہی بہت بڑی کڑی شرط ہے۔ اس پر عمل ہی کوئی نہیں کرتا اور خاص طور پر علماء تو بالکل ہی نہیں کر سکتے۔

آپ نے فرمایا کہ اگر دل بُغض سے بھرا ہواور بدظنی غالب ہو تو پھر شیطانی خیالات ہی آئیں گے۔ بعض لوگ کہہ دیتے ہیں کہ ہم بہت دعا کرتے ہیں ہمیں تو کوئی سچائی نظر نہیں آئی۔ تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا کہ اگر دل میں ہی کینہ بھرا ہوا ہے، بُغض بھرا ہوا ہے تو پھر شیطان نے رہنمائی کرنی ہے۔ پھر خدا تعالیٰ رہنمائی نہیں کرتا۔

(ماخوذاز نشان آسمانی روحانی خزائن جلد4 صفحہ400,401)

اسی طرح علماء اور صلحاء کو خاص طور پر اپنی کتاب ’’کتاب البریہ‘‘ میں مخاطب ہو کر اللہ تعالیٰ سے مدد چاہنے کی تجویز دی۔

(ماخوذ از کتاب البریہ روحانی خزائن جلدنمبر13 صفحہ364)

لیکن بُغض سے بھرے ہوئے علماء اس تجویز پر کبھی عمل نہیں کرتے اور عوام الناس کو بھی اپنے ساتھ ڈبو رہے ہیں۔ بہر حال اس کے باوجود بہت سے سعید فطرت ہیں جو اس نسخے کو آزماتے ہیں اور انہوں نے اللہ تعالیٰ سے رہنمائی چاہی اور اللہ تعالیٰ نے اُن کی رہنمائی فرمائی اور اس کے علاوہ بعض سعید فطرت ایسے ہیں جو نیکی کی تلاش میں رہتے ہیں اُن کی اللہ تعالیٰ ویسے بھی رہنمائی فرماتا ہے۔ بہر حال اس زمانے میں بھی آج کل بھی اللہ تعالیٰ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی سچائی کو ثابت کرنے کے لئے اُن لوگوں کی رہنمائی فرماتا چلا جا رہا ہے جو حق کی تلاش میں سنجیدہ ہیں۔ اس وقت مَیں ایسے ہی لوگوں کے چند واقعات پیش کروں گا۔

تبشیر کی رپورٹ کے مطابق جو عربی ڈیسک نے اُن کودی کہ اس ماہ اپریل کے اَلْحِوَارُ الْمُبَاشِر میں ایم۔ ٹی۔ اے تھری پرجو عربی پروگرام آتا ہے اس میں ایک مصری دوست مکرم عبدہ بکر محمد بکر صاحب نے فون کر کے بتایا کہ میں نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے بیان فرمودہ طریق کے مطابق استخارہ کیا اور یہ دعا کی تو اُسی رات رؤیا میں دیکھا کہ مَیں اپنے ایک سلفی رشتے دار کو اپنے ہاتھ کی انگلی ہوا میں لہراتے ہوئے بڑے جوش سے کوئی بات کہہ رہا ہوں لیکن میرے الفاظ مجھے سنائی نہیں دیتے۔ جب مَیں خواب سے بیدار ہوا تو اگلے دن پھر اسی طریق پر دعا کی اور ساتھ یہ بھی عرض کیا کہ اے اللہ! مجھے کوئی واضح چیز دکھا جس سے انشراحِ صدر ہو جائے۔ چنانچہ مَیں نے دوبارہ وہی رؤیا دیکھا کہ مَیں اپنے اُسی رشتے دار کے سامنے کھڑا ہوں اور اپنے ہاتھ کی انگلی لہراتے ہوئے تین بار کہتا ہوں کہ وَاللّٰہِ الْعَظِیْم۔ اِنَّ الْجَمَاعَۃَ الْاَحْمَدِیَّۃَ جَمَاعَۃُ الْحَقِّ۔ یعنی خدائے عظیم کی قسم ہے کہ جماعت احمدیہ ہی سچی جماعت ہے۔ اس کے بعد کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے بیعت کی توفیق دی۔

حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے لکھا ہے کہ ایک دن دعا کر کے نہ بیٹھ جاؤ بلکہ کم از کم اس سنجیدگی سے دو سے تین ہفتے یا زیادہ دعا کرو۔ جب اللہ تعالیٰ سے رہنمائی چاہو تو اللہ تعالیٰ ایک وقت میں رہنمائی فرمائے گا۔

(ماخوذاز نشان آسمانی روحانی خزائن جلد4 صفحہ401)

پھر ہمارے امریکہ کے ایک مبلغ لکھتے ہیں کہ عبدل سلیم صاحب پچیس، تیس سال پہلے فجی سے لاس انجلیس امریکہ آئے تھے اور عیسائی ماحول ہونے کی وجہ سے عیسائیت قبول کر لی مگر بعد ازاں ایک مسلمان کی تبلیغ سے پھر اسلام کی طرف رجوع کیا۔ کہتے ہیں اُن کی دوستی خاکسار (یعنی ہمارے جومبلغ ہیں انعام الحق کوثر اُن) سے ہو گئی اور یہ ہماری مسجد میں آنے لگے۔ انہیں احمدیت کے متعلق تفصیل بتائی۔ مطالعہ کے لئے لٹریچر دیا اور یہ مشورہ دیا کہ وہ دعا کر کے اللہ تعالیٰ سے رہنمائی حاصل کریں۔ اور دعائے استخارہ کا مسنون طریقہ بتایا۔ چنانچہ انہوں نے استخارے کی دعا کی اور خواب میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نظر آئے۔ اگلے روز وہ حسبِ عادت غیر احمدیوں کی مسجد میں گئے۔ وہاں عرب سے کوئی شَیخ آئے ہوئے تھے۔ اُس شَیخ نے حاضرین کو سوال کرنے کی دعوت دی تو عبدل سلیم صاحب کھڑے ہوئے اور کہا کہ قرآن و حدیث کے مطابق یہ زمانہ حضرت امام مہدی علیہ السلام کی آمد کا ہے۔ چنانچہ مَیں نے دعا کی کہ اے خدا! تو مجھے بتا۔ کیا امام مہدی آ گئے ہیں؟ اور اگر آ گئے ہیں تو کون ہیں؟ تو کہتے ہیں مَیں نے اُن کو بتایا کہ میری خواب میں حضرت مرزا غلام احمد قادیانی علیہ السلام آئے۔ اس پر شیخ نے کہا کہ یہ شیطانی خواب ہے اور اس میں کوئی صداقت نہیں۔ تم کثرت سے تعوّذ پڑھو اور درُود شریف پڑھو۔ چنانچہ انہوں نے پھر دعا کی۔ کثرت سے درود شریف پڑھا۔ پھر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ان کو خواب میں نظر آئے۔ چنانچہ یہ پھر دوبارہ شَیخ کی مجلس سوال و جواب میں گئے اور وہاں ذکر کیا۔ اُس شیخ نے پھر کہا کہ یہ شیطانی خواب ہے۔ عبدل سلیم صاحب نے کہا کہ یہ عجیب بات ہے کہ رات کو مَیں کثرت سے تعوذ پڑھتا ہوں۔ درود شریف پڑھتا ہوں۔ پھر دعا کرتا ہوں کہ اے خدا! تو مجھے امام مہدی علیہ السلام کی آمد کے بارے میں بتا۔ مگر بقول آپ کے خدا تعالیٰ مجھے جواب نہیں دیتا مگر صرف شیطان جواب دیتا ہے۔ یہ تو بڑی عجیب بات ہے۔ یہ جواب سن کر مسجد میں شور مچ گیا اور انہوں نے کہا اس کو یہاں سے باہرنکالو۔ یہ کافر ہے۔ یہ پلید ہے۔ کہتے ہیں یہاں تک کہ عورتوں کی طرف جو سائڈ سکرین تھی، وہاں سے بھی سکرین پیٹی جانے لگی کہ اسے باہر نکالو۔ یہ کافر ہے۔ بہرحال یہ کہتے ہیں مَیں وہاں سے اُٹھ کر آ گیا اور یہ سارا واقعہ انہوں نے ہمارے مبلغ کوسنایا اور پھر کہا کہ اب مجھے شرح صدر ہو گئی ہے کیونکہ شَیخ کے پاس تو اس کا کوئی جواب نہیں اور اب میں بیعت کرنا چاہتا ہوں۔ چنانچہ انہوں نے بیعت کی۔ جس دن بیعت کی تو اسی روز حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام مکمل طور پر خواب میں اُن پر ظاہر ہوئے اور اُن کو سلام کیا اور مصافحہ کیا اور احمدیت قبول کرنے پر مبارکباد دی۔ اور کہتے ہیں اگلے دن مَیں بڑا خوش تھا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے اس طرح مَیں نے مصافحہ کیا۔

تو یہ لوگ جو گزشتہ ایک سو بیس سال سے شیخ ہیں یا نام نہادعلماء ہیں، اسی طرح عوام الناس کو، مسلمانوں کو ورغلاتے چلے جا رہے ہیں۔ اور آج بھی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے یہ الفاظ بڑی شان سے پورے ہو رہے ہیں۔ آپ نے فرمایا کہ ’’مَیں دیکھتا ہوں اور آپ بھی دیکھتے ہیں کہ وہ کافر کہنے والے موجودنہیں اور خدا تعالیٰ نے مجھے اب تک زندہ رکھا ہے اور میری جماعت کو بڑھایا ہے‘‘۔

(لیکچر لدھیانہ روحانی خزائن جلدنمبر20 صفحہ نمبر249,250)

اب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوہ والسلام گو اپنے وجود کے ساتھ ہم میں موجودنہیں لیکن جماعت کا بڑھنا، آپ کا لوگوں میں خوابوں کے ذریعے سے آ کے اپنی سچائی ثابت کرنا یہی زندگی کا ثبوت ہے۔

(خطبہ جمعہ 29؍ اپریل 2011ء)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 1 مئی 2021

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 3 مئی 2021