• 3 نومبر, 2026

آگے بڑھتے رہو

آگے بڑھتے رہو دمبدم دوستو
دیکھو رکنے نہ پائیں قدم دوستو

ناخدا گر خدا کو بناتے رہے
ساحلوں پہ سفینہ بھی آ جائے گا
اُس کے حکموں پہ سر جو جھکاتے رہے
زندگی کا قرینہ بھی آ جائے گا

ساتھ وہ ہے تو پھر کیسا غم دوستو
آگے بڑھتے رہو دمبدم دوستو

جو خلافت کے دامن کو تھامے رہے
رحمتوں کی قبائیں بھی پا جائیں گے
اُس کی رسی کو مضبوط پکڑیں گے جو
نصرتوں کی ردائیں بھی پا جائیں گے

دیکھ لیں گے یہ اہل ستم دوستو
آگے بڑھتے رہو دمبدم دوستو

کوئی سالار جب چھوڑ کے چل دیا
مضطرب کس قدر کارواں ہوگیا
جذبہ ہائے جنوں پر سلامت رہے
پل کو ٹھٹکا پھر آگے رواں ہوگیا

ہے اُسی کا یہ فضل و کرم دوستو
آگے بڑھتے رہو دمبدم دوستو

ماں کی آغوش میں جیسے بچہ رہے
یوں خدا نے ہمیں گود میں لے لیا
اُس نے بے سائباں ہم کو چھوڑا نہیں
گر لیا ایک تو دوسرا دے دیا

اُس نے رکھا ہمارا بھرم دوستو
آگے بڑھتے رہو دمبدم دوستو

(کلام صاحبزادی امۃالقدوس بیگم صاحبہ
ہے دراز دستِ دعا مرا صفحہ351۔353)

Read Previous

یہ انذار خدا کے خاص بندے کے ہیں

Read Next

تعارف سورۃ الصٰفٰت (37ویں سورۃ)

Most Popular