• 3 نومبر, 2026

آو حسن یار کی باتیں کریں

آو حسن یار کی باتیں کریں
یار کی، دلدار کی باتیں کریں
اک مجسم خلق کے قصے کہیں
احمد مختار کی باتیں کریں
جس کو سب سرکار دو عالم کہیں
ہم اسی سرکار کی باتیں کریں
اک گل خوبی کا چھیڑیں تذکرہ
حسن خوشبودار کی باتیں کریں
غم غلط ہو جائیں سب کونین کے
جب بھی اس غمخوار کی باتیں کریں
جس کی ستاری پر دل قر بان ہے
ہم اسی ستار کی باتیں کریں
پھر غم جاناں کی چادر اوڑھ کر
غم کے کاروبار کی باتیں کریں
حسن سے حسن طلب کی داد لیں
عشق کی، تکرار کی باتیں کریں
یار ہے آمادہ لطف و کرم
کیوں عبث انکار کی باتیں کریں
پھر بہار آئی ہے اک مدت کے بعد
پھر گل و گلزار کی باتیں کریں
غیر کو جلنے دیں اس کی آگ میں
مسکرائیں، پیار کی باتیں کریں
پی لیا دریا کا پانی ریت نے
آؤ دریا پار کی باتیں کریں
شب گزیدو! آؤ مل کر صبح تک
صبح کے آثار کی باتیں کریں
صبح ہونے کو ہے مضطر! آیئے
مطلع انوار کی باتیں کریں

(چوہدری محمد علی مضطر عارفی)

Read Previous

حضرت مستری اللہ دتہ ولد صدر دین صاحب رضی اللہ عنہ سکنہ بھانبڑی، حضرت میراں بخش صاحب، حضرت ماسٹر خلیل الرحمن صاحب چھبر

Read Next

آج کی دعا

Most Popular