• 3 نومبر, 2026

صاف ستھرا حُلیہ

حضرت جابر بن عبداللہ ؓ بیان کرتے ہیں :
رسول اللہ ﷺ ہمارے پاس تشریف لائے تو ایک آدمی کو دیکھا کہ پراگندہ حال اور بکھرے ہوئے بالوں کے ساتھ ہے، تو آپ ﷺ نے فرمایا: أَمَا کَانَ یَجِدُ ھٰذَا مَا یُسَکِّنُ بِہٖ شَعْرَہُ۔ کیا اس کے پاس کوئی ایسی چیز نہیں جس سے یہ بال سنوار لے اور انہیں صاف رکھے۔ آپ ﷺ نے ایک اور شخص کو دیکھا کہ اس کے کپڑے میلے کچیلے تھے، آپ ﷺ نے فرمایا: أَمَا کَانَ یَجِدُ ھٰذَا مَآءً یَّغْسِلُ بِہٖ ثَوْبَہٗ۔

کیا اسے پانی میسّر نہیں جس سے یہ اپنے کپڑے کو دھو سکے؟

(سنن ابی داؤد، کتاب اللباس، فی غسل الثوب و فی الخلقان)

Read Previous

ارشاد باری تعالیٰ

Read Next

ظاہری اور باطنی طہارت کی اہمیت

Most Popular