• 18 اکتوبر, 2026

کھاد بنتے ہیں جماعت کو دبانے والے

روز انصاف کے ڈنکے کو بجانے والے
یہ وہی ہاتھ ہیں کلمے کو مٹانے والے

یاد کرتے ہیں جہاں احمدی اپنے رب کو
یہ مسلمان ہیں اس گھر کو گرانے والے

عشق کرتے ہیں محمد سے زبانی لیکن
تنگ ہیں ان کے رویوں سے زمانے والے

حیف اسلام کی خدمت کے بہانے ہر دم
جیب بھرتے ہیں فقط دین سکھانے والے

خون آلود گریبان میں جھانکیں کیسے
نوش کرتے ہیں لہو زھد دکھانے والے

بند کمروں سے اچانک یہ برآمد ہو کر
جیل جاتے ہیں غریبوں کو پڑھانے والے

روز بکتے ہیں خرافات ہماری بابت
پھیلتے نور کو مونہوں سے بجھانے والے

مان جاتے ہیں حقائق کو سعید الفطرت
کھاد بنتے ہیں جماعت کو دبانے والے

ہند و برما کے مظالم پہ ہے سینہ کوبی
آنکھ ہے بند تیری ملک جلانے والے

رسم دنیا ہے جہالت کو پذیرائی ہے
خوف کھاتے ہیں یہاں علم سکھانے والے

(اسد اللہ وحید خان۔ سیرالیون)

Read Previous

عورتیں پڑوسیوں سے حقارت آمیزسلوک نہ کریں

Read Next

تعارف سورۂ طٰہٰ (بیسویں سورۃ)

Most Popular