• 2 نومبر, 2026

ارشاد باری تعالیٰ

اَلۡحَجُّ اَشۡہُرٌ مَّعۡلُوۡمٰتٌ ۚ فَمَنۡ فَرَضَ فِیۡہِنَّ الۡحَجَّ فَلَا رَفَثَ وَ لَا فُسُوۡقَ ۙ وَ لَا جِدَالَ فِی الۡحَجِّ ؕ وَ مَا تَفۡعَلُوۡا مِنۡ خَیۡرٍ یَّعۡلَمۡہُ اللّٰہُ ؕؔ وَ تَزَوَّدُوۡا فَاِنَّ خَیۡرَ الزَّادِ التَّقۡوٰی ۫ وَ اتَّقُوۡنِ یٰۤاُولِی الۡاَلۡبَابِ ﴿۱۹۸﴾

(البقرہ: 198)

ترجمہ:حج چند معلوم مہینوں میں ہوتا ہے۔ پس جس نے ان (مہینوں) میں حج کا عزم کرلیا تو حج کے دوران کسی قسم کی شہوانی بات اور بدکرداری اور جھگڑا (جائز) نہیں ہوگا۔ اور جو نیکی بھی تم کرو اللہ اسے جان لے گا۔ اور زادِسفر جمع کرتے رہو۔ پس یقیناً سب سے اچھا زادِ سفر تقویٰ ہی ہے۔ اور مجھ ہی سے ڈرو اے عقل والو۔

Read Previous

بنیادی مسائل کے جوابات (قسط 24)

Read Next

جب رسول اللہﷺ سفر کا ارادہ کرتے

Most Popular