• 3 نومبر, 2026

یا ربّ کسی معشوق سے عاشِق نہ جُدا ہو

کُشتوں پہ اگر آن کے تُو اپنے کھڑا ہو
اک شورِ قیامت تیری آمد سے بَپا ہو

معشوق کا برتاؤ ہو عاشِق سے تو کیا ہو؟
گہ لُطف ہو، گہ ناز ہو، گہ جَور و جفا ہو

کیا جانیئے قسمت میں یہ کیا پھیر ہے اپنی
ہم جس کےلئے جان دیں وہ ہم سے خفا ہو

کیا تاب زباں کی کہ کرے ہِجر کا مذکور
یا ربّ کسی معشوق سے عاشِق نہ جُدا ہو

اے ابرو ؤ ِمژگانِ صنم! یہ تو بتاؤ؟
گر تُم نہیں جلّاد زمانے کے تو کیا ہو؟

گر قہر پہ ہو جائے کمر بستہ وہ جاناں
غوغائے ستم شورش محشر سے سوا ہو

(حضرت ڈاکٹر میر محمد اسماعیل صاحب)
(بخار دل صفحہ2)

Read Previous

حضرت مسیح موعودؑ کی سیرت کے متعلق حضرت مصلح موعودؓ کے بیان فرمودہ بعض واقعات

Read Next

امام مہدی کی علامات اور حضرت مسیح موعودؑ کا ظہور

Most Popular