• 2 نومبر, 2026

فلک پر جو عرشِ بریں کو ہلا دے

خدایا، سخن میں مجھے وہ نَوا دے
فلک پر جو عرشِ بریں کو ہلا دے

تو شافی ہے مولا، شفاؤں کے مالک
تو قادر ہے قدرت نمائی دکھا دے

عطا کر دے درماں تُو چارہ گروں کو
کرَم سے اِنہیں دستِ معجز نما دے

مسیحا تھے حاذق، جو بے کس ہوئے ہیں
سُجھا دے وہ نسخہ، جو خارق شفا دے

یَکایک یہ بے جان ہوجائیں زندہ
الٰہی تُو ایسی وہ قُم کی ندا دے

یہ بے حال بندے جو تشنہ پڑے ہیں
تُو ہی ساقیا جامِ صحَّت پلا دے

یہ بیمار و بے دَم، سبھی تیرے چاکر
نَفَس پھر سے ان کی اے باری چلا دے

پڑا ہوں جبیں فَرسا، چوکھٹ پہ تیری
دعاؤں کو میری تُو کُن کی صدا دے

(م مبارک محمود)

Read Previous

وہ قومیں جو سمجھتی ہیں کہ ہم محفوظ ہیں لیکن زمانے کے امام کی پیشگوئی کے مطابق وہ بھی محفوظ نہیں ہیں

Read Next

قرآن روحانی اور جسمانی بیماریوں کے لئے شفا کا موجب ہے (قسط دوم)

Most Popular