• 18 اکتوبر, 2026

آقا مرے انمول ہیں

اللہ کی تائید ہو اللہ کی اماں ہو
افضال کی بارش ہو مرا آقا جہاں ہو

آقا مرے انمول ہیں اور نادرو نایاب
اے قادر و قیوم تو ہر پل نگراں ہو

وہ نور ہے جیسے ہو کوئی چاند کا ٹکڑا
اخلاق ہے جیسے کوئی قرآں کا بیاں ہو

دنیا کی ہر اک قوت و طاقت سے غنی ہے
جس شخص کے ہمراہ وہ خود یار نہاں ہو

لازم ہے کہ ہر سانس ہو اسلام کی خاطر
اک جہد مسلسل میں ہر اک پیرو جواں ہو

قدرت کبھی جھوٹوں کی حمایت نہیں کرتی
کھلتے ہیں وہیں پھول کہ سچائی جہاں ہو

ہر ملک میں اب نعرہ ء تکبیر ہی گونجے
دنیا میں ہر اک سمت اب آواز اذاں ہو

اے کاش کہ اب نیکی کے معیار ہوں اونچے
ہرشخص مسیحا کی صداقت کا نشاں ہو

(امۃ الباری ناصر)

Read Previous

جماعت احمد یہ کے قیام کی غرض و غایت

Read Next

خطبہ جمعہ سیدنا امیر المومنین ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز ظلم، تکالیف اور مشکلات سے بچنے کے لئے دعاؤں کی طرف توجہ

Most Popular