• 18 اکتوبر, 2026

سب چھوڑ کے اک دن جانا ہے

سب چھوڑ کے اک دن جانا ہے
پھر دنیا میں کب آنا ہے؟

یہ ریت سدا سے جاری ہے
ہر زندہ نے مر جانا ہے

ماں باپ، عزیز اور دوست سبھی
سب فانی ہی یہ خزانہ ہے

اعمال ترے سب گندے ہیں
کیا رب کو منہ دِکھانا ہے؟

جو مال کمایا ہے تو نے
سب دنیا میں رہ جانا ہے

اب چھوڑ غلامی دنیا کی
کر توبہ، رب کو منانا ہے

اک بار جو دنیا چھوڑ گیا
کب لوٹ کے اس نے آنا ہے؟

دو چار دنوں کا میلہ ہے
پھر قبروں میں ہی ٹھکانہ ہے

ہر چیز یہاں کی فانی ہے
نام اللہ کا رہ جانا ہے

وہ ہستی قائم دائم ہے
بس دل کو یہ سمجھانا ہے

جو رب سے کچھ بھی ربط نہیں
تو جیون یونہی گنوانا ہے

(چوہدری بشارت احمد۔ جرمنی)

Read Previous

معاشرے میں ایک عام بیماری

Read Next

نماز بے حیائی اور نا پسندیدہ باتوں سے روکتی ہے

Most Popular