• 18 اکتوبر, 2026

عدل وانصاف قائم کرنا

ایک مرتبہ جب قریش مکہ نے بنو مخزوم کی ایسی عورت کو معاف کردینے کی سفارش کی جس نے چوری کی تھی تو آنحضور ﷺ نے فرمایا:تم میں سے پہلے لوگ اس لئے ہلاک ہو ئے کہ جب کوئی مال دار چوری کرتا تواسے چھوڑ دیا جاتا اور جب کوئی غریب چوری کرتا تو اس پر حد لگا دی جاتی ۔خدا کی قسم ! اگر محمد (ﷺ) کی بیٹی فاطمہ بھی چوری کرتی تو میں اس کا بھی ہاتھ کاٹ دیتا۔

(صحيح البخاري، كتاب أحاديث الأنبياء)

Read Previous

سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ کے خطبہ جمعہ مورخہ 10 جنوری 2020ء کا خلاصہ

Read Next

عدل و انصاف کے اعلیٰ معیار

Most Popular