• 18 اکتوبر, 2026

ارشاد باری تعالیٰ

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔

وَ اِذۡ قُلۡنَا لِلۡمَلٰٓئِکَۃِ اسۡجُدُوۡا لِاٰدَمَ فَسَجَدُوۡۤا اِلَّا اِبۡلِیۡسَ ؕ کَانَ مِنَ الۡجِنِّ فَفَسَقَ عَنۡ اَمۡرِ رَبِّہٖ ؕاَفَتَتَّخِذُوۡنَہٗ وَ ذُرِّیَّتَہٗۤ اَوۡلِیَآءَ مِنۡ دُوۡنِیۡ وَ ہُمۡ لَکُمۡ عَدُوٌّ ؕ بِئۡسَ لِلظّٰلِمِیۡنَ بَدَلًا ﴿۵۱﴾

(الکھف: 51)

ترجمہ: اور جب ہم نے فرشتوں کو کہا کہ آدم کے لئے سجدہ کرو تو سب نے سجدہ کیا سوائے ابلیس کے۔ وہ جنوں میں سے تھا پس وہ اپنے ربّ کے حکم سے رُوگردان ہوگیا۔ تو کیا تم اسے اور اس کے چیلوں کو میرے سوا دوست پکڑ بیٹھو گے جبکہ وہ تمہارے دشمن ہیں؟ ظالموں کے لئے یہ تو بہت ہی برا بدل ہے۔

Read Previous

الفضل آن لائن 11 فروری 2020

Read Next

قرآن کو ترتیل سے پڑھنا

Most Popular