• 18 اکتوبر, 2026

دل عبادت سے چرانا، اور جنت کی طلب

دل عبادت سے چرانا، اور جنت کی طلب
کام چور اس کام پر کس منہ سے اجرت کی طلب
حشر تک دل میں رہے اس سرو قامت کی طلب
یہ طلب ہے اپنی یارب! کس قیامت کی طلب
ہو مبارک خضرؑ کو سر چشمۂ آبِ بقا
ہے ہمیں آب دمِ تیغِ شہادت کی طلب
بڑھ گئی ہے عشق میں حرص اس قدر اپنی کہ
غم پہ غم کی آرزو حسرت پہ حسرت کی طلب
جو حلاوت زندگی کی چاہتا ہے چرخ سے
کاسۂ زہراب سے کرتا ہے شربت کی طلب
ہو کے دل غمزہ کا بسملِ ناز پر دیتا ہے دم
کرتا ہے آفت طلب آفت پہ آفت کی طلب
یاد ہیں صلب و شکم کی پہلی دونوں منزلیں
یاں کہاں وسعت کہ تُو کرتا ہے راحت کی طلب
گر گلستاں جہاں میں تنگ ہے تو غنچہ وار
کر کشادہ دل سے اپنے ذوقِ وسعت کی طلب

(ابراہیم ذوق)

Read Previous

حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے اتنی دعائیں کی ہیں، اتنے پیار سے سمجھانے کی کوشش کی ہے لیکن ان لوگوں کو سمجھ نہیں آتی۔

Read Next

جے توں میرا ہو رہیں سب جگ تیرا ہو

Most Popular