• 18 اکتوبر, 2026

ارشاد باری تعالیٰ

وَابۡتَلُوا الۡیَتٰمٰی حَتّٰۤی اِذَا بَلَغُوا النِّکَاحَ ۚ فَاِنۡ اٰنَسۡتُمۡ مِّنۡہُمۡ رُشۡدًا فَادۡفَعُوۡۤا اِلَیۡہِمۡ اَمۡوَالَہُمۡ ۚ وَلَا تَاۡکُلُوۡہَاۤ اِسۡرَافًا وَّبِدَارًا اَنۡ یَّکۡبَرُوۡا ؕ وَمَنۡ کَانَ غَنِیًّا فَلۡیَسۡتَعۡفِفۡ ۚ وَمَنۡ کَانَ فَقِیۡرًا فَلۡیَاۡکُلۡ بِالۡمَعۡرُوۡفِ ؕ

(النساء: 7)

ترجمہ: اور یتیموں کو آزماتے رہو یہاں تک کہ وہ نکاح (کی عمر)کو پہنچ جائیں۔ پس اگر تم ان میں عقل (کے آثار) محسوس کرو تو ان کے اموال ان کو واپس کر دو۔ اور اس ڈر سے اسراف اور تیزی کے ساتھ ان کو نہ کھاوٴ کہ کہیں وہ بڑے نہ ہو جائیں۔ اور جو امیر ہو، توچاہئے کہ وہ (ان کا مال کھانے سے) کُلیّ احتراز کرے۔ ہاں جو غریب ہو تووہ مناسب طریق پر کھائے۔

Read Previous

ایڈیٹر کے نام خطوط

Read Next

یتیم کا کفیل

Most Popular