• 18 اکتوبر, 2026

تیرے حالات پُر ستم ہوں گے

تیرے حالات پُر ستم ہوں گے
چاروں اطراف تیرے بَم ہوں گے

یونہی توڑو گے مسجدیں کب تک
اُن کی تعظیم میں حَرم ہوں گے

دُنیا میں تم جہاں بھی جاؤ گے
سامنے اِک ہجوم ہم ہوں گے

جھوٹ کو سچ بنانے والوں کی
آل میں کل ہزاروں خَم ہوں گے

قدغنیں جتنی بھی لگا لو تم
ہم تو بڑھتے رہیں نہ کم ہوں گے

اتنے انعام بھی ملیں گے ہمیں
جتنے ہم پر ترے ستم ہوں گے

راؔج! اُن کو نہیں اثر ہو گا
وہ تو بدبخت لاجَرَم ہوں گے

(محمد ایوب راج)

Read Previous

حفظان صحت کے اصول

Read Next

یقین کا پانی تلاش کرو

Most Popular