• 2 نومبر, 2026

ارشاد باری تعالیٰ

وَ مَثَلُ الَّذِیۡنَ یُنۡفِقُوۡنَ اَمۡوَالَہُمُ ابۡتِغَآءَ مَرۡضَاتِ اللّٰہِ وَ تَثۡبِیۡتًا مِّنۡ اَنۡفُسِہِمۡ کَمَثَلِ جَنَّۃٍۭ بِرَبۡوَۃٍ اَصَابَہَا وَابِلٌ فَاٰتَتۡ اُکُلَہَا ضِعۡفَیۡنِ ۚ فَاِنۡ لَّمۡ یُصِبۡہَا وَابِلٌ فَطَلٌّ ؕ وَ اللّٰہُ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ بَصِیۡرٌ ﴿۲۶۶﴾

(البقرہ:266)

ترجمہ:۔ اور ان لوگوں کى مثال جو اپنے اموال اللہ کى رضا چاہتے ہوئے اور اپنے نفوس مىں سے بعض کوثبات دىنے کے لئے خرچ کرتے ہىں، اىسے باغ کى سى ہے جو اونچى جگہ پر واقع ہو اور اُسے تىز بارش پہنچے تو وہ بڑھ چڑھ کر اپنا پھل لائے، اور اگر اسے تىز بارش نہ پہنچے تو شبنم ہى بہت ہو اور اللہ اس پر جو تم کرتے ہو گہرى نظر رکھنے والا ہے ۔

Read Previous

الفضل آن لائن 14 اگست 2021

Read Next

دو اشخاص پر رشک جائز ہے

Most Popular