• 18 اکتوبر, 2026

فرش پر سجدے جنہیں اشکوں میں تر دیکھا ہے

پیار سے دیکھا جو اللہ کا گھر دیکھا ہے
مسجدِ فضل و مبارک کو دِگر دیکھا ہے
نوروں نہلائے بدن، روحیں معطّر جن کی
ان فرشتوں سا کوئی کم ہی بشر دیکھا ہے
عرش تک ہوں جو رسا ایسی دُعائیں دیکھیں
فرش پر سجدے جنہیں اشکوں میں تر دیکھا ہے
کچھ تو بیمارئ دل آج مرے کام آئی
خود مسیحا نے مرے آ کے ادھر دیکھا ہے
بُوئے گل ناز کرے اس کو چمن میں پا کر
اس کی خوشبو کا ہوا ایسا سحر دیکھا ہے
تھام پایا نہ دل اپنا، نہ اُٹھی پھر سے نگاہ
جس کسی نے بھی اُسے ایک نظر دیکھا ہے
یوں تو گُفتار میں ٹھہراؤ مگر خندہ دہن
نُورِ دیں اس میں کہیں فضلِ عمر دیکھا ہے
دیں کی نصرت کے لئے ہمّتِ مرداں اس میں
ناصرِ دیں بھی ہے طاہر کا اثر دیکھا ہے
بانٹتا پھرتا ہے لوگوں میں جواہر ،ہر دم
خِیرہ کردے جو نگہ ، ایسا گُہر دیکھا ہے
خوش نصیب آگئے ، سب ایسے شجر کے نیچے
ہے اماں سائے میں، میٹھے ہیں ثمر ،دیکھا ہے
حوصلہ تم بھی کرو، ہاتھ بڑھاؤ طارق
پیار مشتاق نگاہوں میں اگر دیکھا ہے

(ڈاکٹر طارق انور باجوہ۔ لندن)

Read Previous

کسی کے گھر جاتے وقت اونچی آواز میں سلام کہا جائے

Read Next

خطبہ جمعہ – حضرت مسیح موعودؑ کے غیر معمولی صبر اور تحمل کے پُر اثر واقعات

Most Popular