• 18 اکتوبر, 2026

خلافت

یہ نکتہ کیا نہیں ہے آدمی کے غور کے قابل
کہ پتہ شاخ سے گرتا ہے جب مرجھا ہی جاتا ہے

رواں ہے بلبلے کی ناؤ بھی دریا کی موجوں پر
ذرا ابھرے تو ہئیت میں تغیر آ ہی جاتا ہے

سبق دیتی ہے تاریخ خلافت نوع انساں کو
کہ اہل حق کے قدموں میں زمانہ آ ہی جاتا ہے

ہزاروں ہوں گھنے تاریک بادل مٹ ہی جاتے ہیں
کہ جب سورج نکلتا ہے تو آخر چھا ہی جاتا ہے

اخوت ایک نعمت ہے وگرنہ سلسلہ غم کا
اگر ہو مستقل تو آدمی گھبرا ہی جاتا ہے

عجب شے ہے جہاں میں جذبۂ شوق محبت بھی
جو اس کو ڈھونڈنے آتا ہے آخر پا ہی جاتا

(عبدالسلام اختر صاحب)

Read Previous

افراد جماعت کو ہنر سیکھنے اور محنت کرنے کی طرف توجہ

Read Next

تعارف سورۃ الشعراء (چھبیسویں سورۃ)

Most Popular