• 3 نومبر, 2026

شرع میں سود کی تعریف

حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام فرماتے ہیں کہ
’’شرع میں سود کی یہ تعریف ہے کہ ایک شخص اپنے فائدے کے لئے دوسرے کو روپیہ قرض دیتا ہے اور فائدہ مقرر کر تا ہے۔ یہ تعریف جہاں صادق آوے گی وہ سود کہلاوے گا لیکن جس نے روپیہ لیا ہے اگر وہ وعدہ وعید تو کچھ نہیں کرتا اور اپنی طرف سے زیادہ دیتا ہے اور دینے والا اس نیت سے نہیں دیتا کہ سود ہے تو وہ بھی سود میں داخل نہیں ہے، وہ بادشاہ کی طرف سے احسان ہے۔ پیغمبر خدا نے کسی سے ایسا قرضہ نہیں لیا کہ ادائیگی کے وقت اسے کچھ نہ کچھ ضرور زیادہ(نہ) دے دیا ہو۔ یہ خیال رہنا چاہئے کہ اپنی خواہش نہ ہو خواہش کے برخلاف جو زیادہ ملتا ہے وہ سود میں داخل نہیں ہے‘‘۔

(بحوالہ ملفوظات جلد 3صفحہ166۔167ایڈیشن1988ء)

Read Previous

نبی کریم ﷺ کی قرض کے متعلق قول

Read Next

انسان کو دوسروں کی مدد کی ضرورت پڑتی ہے

Most Popular