• 3 نومبر, 2026

حادثہ اندر ہی اندر ہو گیا

حادثہ اندر ہی اندر ہو گیا
وہ ہنسا اور ہنس کے پتھر ہو گیا
بولنا بھی تھا بہت مشکل مگر
اب تو چپ رہنا بھی دوبھر ہو گیا
ریزہ ریزہ ہو گئی تصویر بھی
آئینہ ناراض مل کر ہو گیا
ہم ہوئے بدنام اگر اس کے لیے
تذکرہ اس کا بھی گھر گھر ہو گیا
شہر کی دیوار تو تھی ہی خلاف
سایہ بھی اب حملہ آور ہو گیا
دل پگھل کر بہہ گئے فرقت کی شب
آنکھ کا صحرا سمندر ہو گیا
اس قدر اس نے ستایا خلق کو
سب کو اس کا نام ازبر ہو گیا
دن چڑھے بیمار کو نیند آ گئی
زندگی کا مرحلہ سر ہو گیا
کس لئے حیران ہیں دشمن مرے
معجزہ تھا بارِ دیگر ہو گیا
اب بھی حیرت ہے کہ دِل کا مرحلہ
اس قدر آسان کیونکر ہو گیا
جب سے مضطرؔ کی زباں بندی ہوئی
وہ غزل کہنے کا خوگر ہو گیا

(چوہدری محمد علی مضطرؔ عارفی)
(اشکوں کے چراغ ایڈیشن سوم صفحہ594-595)

Read Previous

مومنین کی شان یہ ہے کہ فتنے سے بچیں

Read Next

آنحضورﷺ کی بچوں کو نصائح

Most Popular