• 18 اکتوبر, 2026

ایک سبق آموزبات

ذرا پکڑانا

فی زمانہ ہر کام آسانی اور سہولت سے ہو جانے کے باعث سستی اور کاہلی سے بھرا یہ جملہ ’’وہ فلاں چیز ذرا پکڑانا‘‘ عام ہوتا جا رہا ہے۔ ہر شخص اس کوشش میں ہوتا ہے کہ اسے اپنی جگہ سے ہلنا نہ پڑے اور اس کا معمولی سا کام بھی کوئی دوسرا کر دے۔ ہمارے سامنے صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم کا وہ نمونہ موجود ہے جو کسی سے سوال کرنے سے بچنے کے لیے میدانِ جنگ میں بھی سواری سے اتر کر خود اپنا ہتھیار اٹھاتے تھے۔

کیا ہی خوب ہو اگر ہم میں سے ہر شخص یہ سوچ پیدا کر لے کہ اسے نہ صرف اپنا ہر کام خود کرنا ہے بلکہ حتی الوسع دوسروں کا بوجھ بانٹنے کی بھی کوشش کرنی ہے تو کاہلی اور ہر وقت دوسروں سے مدد طلب کرنے کی غلط عادت کا خود بخود سدِّ باب ہو جائے گا۔

(مرسلہ: ثمرہ خالد۔ جرمنی)

Read Previous

فقہی کارنر

Read Next

الفضل آن لائن 18 نومبر 2022

Most Popular