• 3 نومبر, 2026

گرائی جائیں گی اس بار سب نفرت کی دیواریں

چلے گی جب ہوائے فصلِ گُل سرشار گلیوں میں
کھلیں گے پھول، مہکیں گے درودیوار گلیوں میں

فضائے شہر ہو گی پھر گُل و گُلزار گلیوں میں
گلاب آنکھوں میں لے کر جب پھریں گے یار گلیوں میں

گرائی جائیں گی اس بار سب نفرت کی دیواریں
نہ میری جیت گلیوں میں نہ تیری ہار گلیوں میں

بہت تھا زُعمِ زور و زر خمارِ آگہی جن کو
انہی کا ٹوٹ کر بکھرا بُتِ پندار گلیوں میں

ابھی تک شہر کے دیوار و بام و در نہیں بھولے
مرا اقرار گلیوں میں، ترا انکار گلیوں میں

عزیز از جان و دل جو آبروئے عشق رکھتے ہیں
اُٹھا کر آ گئے کاندھوں پہ اپنے دار گلیوں میں

لہو دے کر بڑھا دی لو چراغِ حُسن کی ہم نے
تہِ تلوار گلیوں میں ، کبھی سنگسار گلیوں میں

ہماری فتح و عظمت کا نقارہ بج اُٹھے گا جب
سُنیں گے ہم عدو کا شورِ حالِ زار گلیوں

(فضل الرحمن)

Read Previous

’’تقویٰ کی باریک راہیں روحانی خوبصورتی کے لطیف نقوش اور خوشنما خط وخال ہیں‘‘۔ (حضرت مسیح موعود ؑ)

Read Next

تعارف سورۃ فاطر (35ویں سورۃ)

Most Popular