• 18 اکتوبر, 2026

’’گالیاں سن کر دعا دو پا کے دکھ آرام دو‘‘

دشمنوں کو بھی نہ پیارو تم کبھی دشنام دو
ہر طرف ہر قوم کو تم امن کا پیغام دو

ساقی کوثر کے ہو تم جانے پہچانے غلام
اسود و احمر کو تم اس میکدے کا جام دو

جس خدا کو ہم نے مانا وہ ہے رب العٰلمین
تم بلا تخصیص ہر ذی روح کو آرام دو

حق نے بخشا ہے تمہیں اک ارفع و اعلیٰ مقام
تم یَدِعُلیا بنو خیرات صبح و شام دو

جادۂ حق سے الگ تم کو نہ کوئی کر سکے
اپنے ایماں کے شجر کو اتنا استحکام دو

انتقامِ ظلم لینا ظلم سے بے سود ہے
شاہِ بطحاؐ کی طرح بخشش کا فیضِ عام دو

ہم کو اے شبیر ؔ یہ تعلیم ہے پیشِ نظر
’’گالیاں سن کر دعا دو پا کے دکھ آرام دو‘‘

(چوہدری شبیر احمد)

Read Previous

سچ کی اہمیت

Read Next

امریکہ میں ’’وَسِّعْ مَکَانَکَ‘‘ کی ایک اور جھلک مجلس خدام الاحمدیہ کیلئے تین منزلہ عمارت کی خرید

Most Popular