• 18 اکتوبر, 2026

نہ دُکھ سُنا یہاں وہاں، نہ سنگِ رہ شمار کر

نہ دُکھ سُنا یہاں وہاں، نہ سنگِ رہ شمار کر
بہشت کی ہے آرزو تو ہر کسی سے پیار کر

کسی میں کتنے عیب ہیں، یہ تیرا مسئلہ نہیں
تُو جن کا ہے جوابدہ وہ کام بار بار کر

غرور وہ کرے جو کُن کہے تو کائنات ہو
تُو ہاتھ جوڑ، سر جُھکا، نگہ کو خاکسار کر

تُو فیصلہ یہ کر کہ تیرا خیرخواہ کون ہے
اُسے پسند جو نہیں وہ رہ نہ اختیار کر

تُو خود نہیں یہ جانتا تُو کس قدر حسین ہے
سو دور بیٹھ، پاس آکے دل نہ بےقرار کر

جو ’’آج‘‘ کو امر کرے وہ کامیاب شخص ہے
سو آج نیکیاں کما، نہ کل پہ اِنحصار کر

(مبارک صدیقی۔ لندن)

Read Previous

قرآن کریم اول سے آخر تک اس بات سے بھرا پڑا ہے

Read Next

تبلیغ میں پریس اور میڈیا سے کس طرح کام لیا جاسکتا ہے (قسط 61)

Most Popular