• 3 نومبر, 2026

دل رفتہ جمال ہے اس ذوالجلال کا

دل رفتہ جمال ہے اس ذوالجلال کا
مستجمع جمیع صفات و کمال کا

ادراک کو ہے ذات مقدس میں دخل کیا
ادھر نہیں گزر گمان و خیال کا

حیرت سے عارفوں کو نہیں راہ معرفت
حال اور کچھ ہے یاں انھوں کے حال و قال کا

ہے قسمت زمین و فلک سے غرض نمود
جلوہ وگرنہ سب میں ہے اس کے جمال کا

مرنے کا بھی خیال رہے میرؔ اگر تجھے
ہے اشتیاق جان جہاں کے وصال کا

(میر تقی میر)

Read Previous

ہماری جماعت کے لئے بھی اسی قسم کی مشکلات ہیں جیسے آنحضرتﷺ کے وقت مسلمانوں کو پیش آئے تھے

Read Next

آج کی دعا

Most Popular