• 3 نومبر, 2026

آثار محبت

دل جس کا ہوا حامل اسرار محبت
چہرے پہ برسنے لگے انوار محبت
لائے نہ اگر لب پہ بھی گفتار محبت
آنکھوں سے عیاں ہوتے ہیں آثار محبت
یہ جوش دبانے سے ابھرتا ہے زیادہ
مجبور ہے مجبور ہے سرشار محبت
یہ دردکبھی راز نہاں رہ نہیں سکتا
گو ضبط بھی کرتا رہے بیمار محبت
پوچھے دل عشاق سے کوئی کہ یہ کیا ہے
کس لطف کی دیتا ہے کھٹک خار محبت
اس صاحب آزار کی راحت ہے اسی میں
بن جائے ہر اک زخم نمک خوار محبت
ہر دم دل بیمار کو رہتی ہے تمنا
کچھ اور بڑھے شدت آزار محبت

(کلام صاحبزادی نواب مبارکہ بیگم صاحبہ)
(درعدن)

Read Previous

پس اللہ تعالیٰ نے آپ کو تسلی دلائی کہ یہ طعن و تشنیع جو دشمن کرتا ہے وہ تو ہونی ہے، آپ صبر کے ساتھ اسے برداشت کریں

Read Next

آج کی دعا

Most Popular