• 18 اکتوبر, 2026

کوئی جوہر ہے دل میں کارفرما

مرے دل میں اچانک یہ خلِش کیا!
کوئی کرنے لگا ہے سرزنِش کیا؟

ہزاروں نفرتیں دل میں بسی ہیں
بنے پھرتے ہو تم صوفی منِش کیا!

اگر سینے میں کینےکچھ نہیں ہیں
تو یہ تکرار کیا، یہ چپکلِش کیا؟

جدھر دیکھو عداوت ہی عداوت
کبھی بدلے گی دُنیا کی روِش کیا؟

محبت کا سبق گھر میں نہیں ہے
مدارس کر رہے ہیں پرورِش کیا!

کوئی جوہر ہے دل میں کار فرما
وگرنہ گردِش خوں کیا، تپِش کیا؟

ہے بہرِ درسِ انساں، کاش! سمجھے
کواکب میں ہے یہ باہم کشش کیا؟

ہر اک وادی میں سرگرداں نہیں میں
مرے اشعار کیا، داد و دہِش کیا

(میر انجم پرویز۔ عربی ڈیسک یوکے)

Read Previous

بہتان طرازی اور الزام تراشی کی شناخت اور اس کی اشاعت سے اجتناب کا حکم

Read Next

دعاؤں کو مانگنے کے طریقے

Most Popular