• 18 اکتوبر, 2026

محبتوں کے سفیر

ہمارے حق میں آوازیں کہاں سے آتی ہیں
کبھی زمیں سے کبھی آسماں سے آتی ہیں

فقط ہم ہی ہیں جہاں میں محبتوں کے سفیر
یہ خوشبوئیں تو ہوا کی اذاں سے آتی ہیں

وہ ہم ہی ہیں جو کریں گے جہانِ نو تعمیر
گواہیاں یہ ہماری قرآں سے آتی ہیں

ہم ہی بتائیں گے دنیا کو اے خزاں زادو
بہاریں آنکھ کے اَشکِ رواں سے آتی ہیں

بھرا ہے پھولوں پھلوں سے چمن خلافت کا
جو برکتیں ہیں مسیح الزماںؑ سے آتی ہیں

جو روز ٹوٹتیں اُمّت پہ آفتیں، سوچو
خدا ہے اِن کا تو پھر یہ کہاں سے آتی ہیں

اندھیرے ہوتے ہیں دِل کے دعاؤں سے روشن
شمعیں ُہدا کی یہ ربّ ِ رَحماں سے آتی ہیں

(عبدالجلیل عبادؔ ۔ جرمنی)

Read Previous

نظام سلسلہ کی پابندی اور احترام

Read Next

خطبہ جمعہ سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز مورخہ 3جنوری 2020ء بمقام مسجد بیت الفتوح لندن

Most Popular