• 2 نومبر, 2026

خلا فت

خدا کا یہ احسان ہے ہم پہ بھاری
کہ جس نے ہے اپنی یہ نعمت اتاری
نہ مایوس ہو نا گھٹن ہو نہ طاری
رہے گا خلافت کا فیضان جاری
نبوت کے ہاتھوں جو پَودا لگا ہے
خلافت کے سائے میں پْھولا پَھلا ہے
یہ کرتی ہے اس باغ کی آبیاری
رہے گا خلافت کا فیضان جاری
خلافت سے کوئی بھی ٹکر جو لے گا
وہ ذلّت کی گہرائی میں جا گرے گا
خدا کی یہ سنّت ازل سے ہے جاری
رہے گا خلافت کا فیضان جاری
خدا کا ہے وعدہ خلافت رہے گی
یہ نعمت تمہیں تا قیامت ملے گی
مگر شرط اس کی اطاعت گزاری
رہے گا خلافت کا فیضان جاری
محبت کے جذبے، وفا کا قرینہ
اُخوُّت کی نعمت، ترقی کا زینہ
خلافت سے ہی برکتیں ہیں یہ ساری
رہے گا خلافت کا فیضان جاری
الٰہی ہمیں توُ فراست عطا کر
خلافت سے گہری محبت عطا کر
ہمیں دکھ نہ دے کوئی لغزش ہماری
رہے گا خلافت کا فیضان جاری

(کلام صاحبزادی امۃالقدوس بیگم)

Read Previous

’مولیٰ بس‘ کے نظارے اور ’کیا خدا کافی نہیں ہے‘ کے نظارے مجھے تو ہر لمحہ نظر آتے ہیں کیونکہ اگر ویسے میں دیکھوں تومیری کوئی حیثیت نہیں ہے

Read Next

اے شمع رُخ! اپنا مجھے پروانہ بنا دے

Most Popular