• 18 اکتوبر, 2026

شبد زندہ رہیں یا مر جائیں

شبد زندہ رہیں یا مر جائیں
اپنے حصّے کی بات کر جائیں

حکم تھا، چھوڑ کر چلے جاؤ
کچھ بتایا نہیں کدھر جائیں

خاکِ پا ہیں، پڑے رہیں گے کہیں
آپ خوش باش اپنے گھر جائیں

یوں بھی اک دن تو مر ہی جانا ہے
آؤ اک دوسرے پہ مر جائیں

رینگتے جائیں مسجدوں کی طرف
دنیا داری کو دوڑ کر جائیں

پانی سر سے گزر نہ جائے کہیں
توبہ توبہ کریں، سدھر جائیں

جان ہے تو جہان ہے جاذل
جب ڈرائے کوئی تو ڈر جائیں

(جواد جاذل)

Read Previous

صحابہ کرامؓ نیکیوں میں بڑھنے میں کس قدر فکر کیا کرتے تھے

Read Next

وسعتِ حوصلہ، ایک خوبصورت خُلق

Most Popular