• 2 نومبر, 2026

چھوڑ کر عقل کی باتیں ساری

چھوڑ کر عقل کی باتیں ساری
عشق سے مانگ زکوٰتیں ساری

اسؐ کی توصیف مکمل نہ ہوئی
ہو گئیں ختم لغاتیں ساری

توڑ کر پھینک دے اسؐ کے در پر
یہ قلم اور دواتیں ساری

اسؐ کی نظروں سے چھپا کر رکھنا
صوم اپنے یہ صلاتیں ساری

اسؐ سے ہی ملتے ہیں سارے انعام
سارے اکرام، نجاتیں ساری

دیکھنا ان کو چھپا کر رکھنا
کام آئیں گی یہ راتیں ساری

ہے فقط عشق نجیب الطرفین
اَور کم ذات ہیں ذاتیں ساری

تن کی مٹی ہو کہ من کا سونا
ایک ہی دھات ہیں دھاتیں ساری

سامنا انؐ سے ہؤا جب مضطرؔ!
خود گرا دو گے قناتیں ساری

(چوہدری محمد علی مضطرؔ عارفی
اشکوں کے چراغ ایڈیشن 2011 صفحہ169)

Read Previous

‘‘مَیں بھیجا گیا ہوں کہ تا سچائی اور ایمان کا زمانہ پھر آوے اور دلوں میں تقویٰ پیدا ہو۔’’(حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ؑ)

Read Next

تعارف سورۃ التغابن (64 ویں سورۃ)

Most Popular