• 2 نومبر, 2026

غزل

رنگ بھرتے ہوئے تصویر میں سوچا ہو گا
کون سا رنگ ترے چہرے پہ جچتا ہو گا
حسن جب دیکھا پسِ پردہ، یہ سوچا میں نے
خوبصورت تو فقط رنگ حیا کا ہو گا
کر سکوں حسن بیاں اس کا، یہ ممکن ہی نہیں
میں اگر سوچوں، غلط فہمی یا دھوکا ہو گا
جس کی تخلیق پہ حیرت تھی فرشتوں کو ہوئی
اس نے جو رنگ بھرا ہو گا وہ اچھا ہو گا
جس کے سائے نے بچایا ہے کڑی دھوپوں سے
اس کے آنگن میں محبّت ہی کا پودا ہوگا
جس نے چکھا ہے کبھی عشقِ حقیقی کا مزہ
رات کے پچھلے پہر سجدوں میں روتا ہو گا
کل جسے جانا ہو اور پاس نہ ہو زاد کوئی
چین کی نیند بھلا وہ کہاں سوتا ہو گا
طارق اس دور میں بھی لوگ اگر ہیں اچھے
ان سے راضی تو یقیناً تِرا مولا ہو گا

(ڈاکٹر طارق انور باجوہ۔ لندن)

Read Previous

میاں بیوی کی چھوٹی چھوٹی باتوں پر تلخ کلامی

Read Next

آئیوری کوسٹ ریجن بندوکو میں یوم تبلیغ اور تبلیغی بک سٹال

Most Popular