• 1 نومبر, 2026

عشق جب بھی کیا والہانہ کیا

آنکھ روتی رہی، دل برا نہ کیا
غم چھپانے کا پھر اک بہانہ کیا

چاند تاروں سے بھر دی اگر مانگ بھی
اس قدر ناز پر اکتفا نہ کیا

تو غزل بن کے ڈھلتی گئی آنکھ میں
ہم نے نظروں کو جب شاعرانہ کیا

ہم نے دل کے اثاثے چھپا کر رکھے
وار ظالم نے تھا جارحانہ کیا

دل جگر وار ڈالا، فدا ہو گئے
عشق جب بھی کیا والہانہ کیا

لوگ مجھ سے تری بات کہنے لگے
ذکر تیرا مگر غائبانہ کیا

ضبط نے آنسوؤں کو جکڑ کے رکھا
غم نے حملہ بھلے قاتلانہ کیا

ایک لمحہ بھی صدیوں سا لگنے لگا
یار کو جب اچانک روانہ کیا

دل کو انمول موتی کہا ہے فراز!
لے، حوالے ترے یہ خزانہ کیا

(اطہر حفیظ فرؔاز)

Read Previous

کینیا میں پہلی احمدیہ مسجد کی تعمیر

Read Next

یہ جہاز مجھے ضرور لے کر جائے گا

Most Popular