• 18 اکتوبر, 2026

ارشاد باری تعالیٰ

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔

وَ اصۡبِرۡ نَفۡسَکَ مَعَ الَّذِیۡنَ یَدۡعُوۡنَ رَبَّہُمۡ بِالۡغَدٰوۃِ وَ الۡعَشِیِّ یُرِیۡدُوۡنَ وَجۡہَہٗ وَ لَا تَعۡدُ عَیۡنٰکَ عَنۡہُمۡ ۚ تُرِیۡدُ زِیۡنَۃَ الۡحَیٰوۃِ الدُّنۡیَا ۚ وَ لَا تُطِعۡ مَنۡ اَغۡفَلۡنَا قَلۡبَہٗ عَنۡ ذِکۡرِنَا وَ اتَّبَعَ ہَوٰٮہُ وَ کَانَ اَمۡرُہٗ فُرُطًا ﴿۲۹﴾

(الکھف: 29)

ترجمہ: اور تُو خود بھی صبر کر اُن لوگوں کے ساتھ جو صبح بھی اور شام کو بھی اپنے ربّ کو، اس کی رضا چاہتے ہوئے، پکارتے ہیں۔ اور تیری نگاہیں اُن سے تجاوز نہ کریں اس حال میں کہ تو دنیا کی زندگی کی زینت چاہتا ہو۔ اور اس کی پیروی نہ کر جس کے دل کو ہم نے اپنی یاد سے غافل کر رکھا ہے اور وہ اپنی ہوس کے پیچھے لگ گیا ہے اور اس کا معاملہ حد سے بڑھا ہوا ہے۔

Read Previous

الفضل آن لائن 6 فروری 2020

Read Next

رسول اللہؐ کو دی گئی فضیلت

Most Popular