• 18 اکتوبر, 2026

خدا کے نام کرتے ہیں

چلو کچھ کام کرتے ہیں
محبت عام کرتے ہیں
یہ دل خوشبو کی مانند ہے
ہوا کے نام کرتے ہیں
خِزاں کے موسموں کو اب
گل و گُلفام کرتے ہیں
ستارہ اب زمیں کا ہم
یہ ماہِ تام کرتے ہیں
بُھلا کر محفلیں اُجڑی
حسیں ہر شام کرتے ہیں
چلو میخانے جا کے ہم
لَبالَب جام کرتے ہیں
قیامت دے رہی دستک
سَبک اب گام کرتے ہیں
یہ دِل دنیا کا اب اپنا
خُدا کے نام کرتے ہیں
جو سنّت سے ہے سیکھی وہ
ریاضت عام کرتے ہیں
حقیقت کھول کر جاری
چلو پیغام کرتے ہیں
ہمارے عہد کے حاکم
فسادی کام کرتے ہیں
محبت کا سَرِ بازار
قتلِ عام کرتے ہیں

(عبدالجلیل عبادؔ ۔جرمنی)

Read Previous

سیرالیون کی پارلیمنٹ میں نماز جمعہ

Read Next

مغفرت الٰہی کے نظارے

Most Popular