• 18 اکتوبر, 2026

اُلفت کی جستجو

میں اس ذات سے بے خبر تھا
وہ میری ذات سے باخبر تھا

اس سے الفت کی جستجو کی
اگرچہ ارادوں میں منتشر تھا

اپنے ماتھے کی سلوٹوں سے
شہر بھر میں معتبر تھا

اپنی نظروں سے گِر گیا میں
وہ گناہوں سے باخبر تھا

میں قصہ طویل سمجھا تھا
قصہ سانسوں کا مختصر تھا

میں جس ذات کا منتظر تھا
وہ ازل سے میرا ہمسفر تھا

(کاشف ریحان خالد۔بیلجیئم)

Read Previous

آنحضرت ﷺ کے روحانی فیض کا کمال

Read Next

نعت

Most Popular