• 18 اکتوبر, 2026

تُو فضل کر تُو رحم کر

تیرے در پر ہے کھڑی تو فضل کر تو رحم کر
ساری دنیا ہر گھڑی تو فضل کر تو رحم کر
طاقتِ پرواز ذہنوں سے ہمارے اڑ گئی
جاں ہے کانٹوں میں اَڑی تو فضل کر تو رحم کر
اے خدا یہ دُور کوئی اور کر سکتا نہیں
ہے بلا وہ آ پڑی تو فضل کر تو رحم کر
تیری چوکھٹ پہ ہیں سجدہ ریز ہم اے ذوالمنن
آزمائش ہے کڑی تو فضل کر تو رحم کر
اب ہماری آنکھوں میں جوش ندامت کے سبب
آنسوؤں کی ہے جھڑی تو فضل کر تورحم کر
تیرے عفو و درگزر سےدل میں امید کرم
ہم کو مالک ہے بڑی تو فضل کر تو رحم کر

(پروفیسر مبارک احمد عابد)

Read Previous

سورۃ الفاتحہ کا تعارف

Read Next

اطلاعات اعلانات

Most Popular